کس قدر مشکلات سے گزرا

کس قدر مشکلات سے گزرا
میں تری کائنات سے گزرا

پھر وہی پیا س کی کہانی تھی
جب میں نہرِ فرات سے گزرا

ہر طرف ایک سی سیاہی تھی
دن سے گزرا کہ رات سے گزرا

زندگی مجھ میں سرسرانے لگی
اس کا آنچل جو ہاتھ سے گزرا

یہ تو اِس دل کا حوصلہ تھا کلیم
جس طرح حادثات سے گزرا

کلیم احسان بٹ

Related posts

نہیں آنکھوں میں یونہی نم ذیادہ

لحاظ، پیار، وفا، اعتبار کچھ بھی نہیں

کھُل گئی زمانے پر مجرمانہ خاموشی