کیوں چشمِ نم یہ زیرِ نکاسی

کیوں چشمِ نم یہ زیرِ نکاسی ہے میرے یار
یہ تو صریح وعدہ خلافی ہے میرے یار

حیرت سمیت ساری کی ساری سما گئی
یہ کائنات آنکھ سے چھوٹی ہے میرے یار

اک بار اتفاق سے سونا ہوا نصیب
بازو وہ زعفران کی ٹہنی ہے میرے یار

تو سامنے تھا پھر بھی تجھے سوچتے رہے
ثابت ہوا کہ وصل اضافی ہے میرے یار

اک عرصہء دراز سے ملتے رہے ہیں ہم
اک بات تجھ سے آج بھی کہنی ہے میرے یار

دشتِ سخن تو ایک پڑاؤ ہے عارضی
وحشت کا سلسلہ ابھی کافی ہے میرے یار

وہ گنگنا رہے ہیں مرے شعر زیرِ لب
کارِ سخن کی پہلی کمائی ہے میرے یار

بالوں نے چکھ لئے ہیں سفیدی کے ذائقے
عارض کا رنگ اب بھی گلابی ہے میرے یار

ملنے پہ خوش ہوئے تو بچھڑنے پہ رو دیئے
یعنی یہ عشق صرف کتابی ہے میرے یار!!

خالی شکم کی آنکھ سے دیکھو تو علم ہو
تم جس کو چاند کہتے ہو روٹی ہے میرے یار

ایک عشق، ایک زندگی اک تُو اور ایک میں
منشور اپنا ایک نکاتی ہے میرے یار

اظہر عباس خان

Related posts

بات کرتے ہو کیا دسمبر کی

ماورا ہے سوچوں سے

گریہ و نالہ کناں ہیں دل _ برباد اور میں