کیا کہوں کیسے اضطرار میں ہوں

کیا کہوں کیسے اضطرار میں ہوں

میں دھواں ہو کے بھی حصار میں ہوں

اب مجھے بولنا نہیں پڑتا

اب میں ہر شخص کی پکار میں ہوں

جس کے آگے ہے آئینہ دیوار

میں بھی کرنوں کی اس قطار میں ہوں

آہٹوں کا اثر نہیں مجھ پر

جانے میں کس کے انتظار میں ہوں

پردہ پوشی تری مجھی سے ہے

تیرے آنچل کے تار تار میں ہوں

تنگ لگتی ہے اب وہ آنکھ مجھے

دفن جیسے کسی مزار میں ہوں

مجھے میں اک زلزلہ سا ہے شاہدؔ

میں کئی دن سے انتشار میں ہوں

شاہد ذکی

Related posts

نہیں آنکھوں میں یونہی نم ذیادہ

لحاظ، پیار، وفا، اعتبار کچھ بھی نہیں

کھُل گئی زمانے پر مجرمانہ خاموشی