خوشیوں کا غریبوں کو

خوشیوں کا غریبوں کو بھی حق دار بناؤ
تہوار یا رسموں کو نہ دشوار بناؤ

تھیٹر تو عطا کر دیا غمگین دلوں کا
تم اپنے خیالات سے کردار بناؤ

ماضی کا بڑھاپا نہیں چلتا بے سہارا
تم غم سے بنی اینٹوں کی دیوار بناؤ

میں ملکی تباہی کے سبب چڑ سا گیا ہوں
اس بار نئی سرخئ اخبار بناؤ

مفلس کو عجائب گھروں کا بیچو ٹکٹ اور
ہڈی سے غریبوں کی ہی شہکار بناؤ

ہو گیس بھی پانی بھی ہو بجلی بھی میسر
بس ایسی جگہ ڈھونڈ کے گھر بار بناؤ

رونا یہ وقیع اب کہ ذرا کام تو آۓ
رنگوں سے نہیں اشکوں سے شہکار بناؤ

سید محمد وقیع

Related posts

یہ فکر آنکھوں میں اس کی خنجر اتارتی ہے

کیا تم نے کبھی دیکھا ہے ؟

ہو کے پارہ لہو میں ڈوب گیا