کچھ تو بتا اے دوست پریشاں ہے کس لیے

کچھ تو بتا اے دوست پریشاں ہے کس لیے
رستے کی مشکلوں سے ہراساں ہے کس لیے

ہے کس لیے تو آج پشیماں حیات میں
چہرہ اداس اشک بداماں ہے کس لیے

میں نے قدم قدم پہ تجھے حوصلہ دیا
پھر بد گمان مجھ سے ہی ناداں ہے کس لیے

تیرےتفکرات میں گزری ہے زندگی
میری نوازشات پہ حیراں ہے کس لیے

میں ان نگارشات محبت کا کیا کروں
جب تو نہیں تو پیار کا ساماں ہے کس لیے

ہیں کس لیے یہ رنگِ بہاراں کی رونقیں
تیرے بغیر صبح بہاراں ہے کس لیے

وہ بے وفا ہے شازیہ اور نہ ہی راہزن
پھر بھی خزاں کی زد میں گلستاں ہے کس لیے

شازیہ طارق

Related posts

​کب سے ہم نے تیرے غموں کو

حاصلِ عشق کا ہر روز تماشا نہ کریں

اپنی نیّت دیکھ لینا، پھر ہماری دیکھنا