جانا ہی اگر تھا تو کچھ مجھ سے کہا ہوتا

جانا ہی اگر تھا تو کچھ مجھ سے کہا ہوتا
اے کاش مرے دل کا بھی حال سنا ہوتا

بے چینی مرے دل کی ہر گز نہ بڑھی ہوتی
گر تم نے محبت کا اظہار کیا ہوتا

دو لفظ محبت کے کافی تھے مرے دلبر
حق میری وفاؤں کا گر تم نے دیا ہوتا

اڑتے ہوئے پنچھی سے امیدِ وفا کر کے
اے کاش نہ دھوکہ یہ خود کو ہی دیاہوتا

اس دل کی اذیت کو اے دوست سمجھ جاتے
جو درد سہا ہم نے گر تم نے سہا ہوتا

ہم بھی نہ اٹھاتے یہ صدمات محبت کے
گر عشق میں بیچارہ یہ دل نہ پڑا ہوتا

یوں پھول ندامت کے ہم نے نہ چنے ہوتے
اے دوست اگر تم نے دھوکہ نہ دیاہوتا

تھک ہار کے اب خود سے ہم شازیہ کہتے ہیں
دنیا میں محبت کا کوئی تو صلہ ہوتا

شازیہ طارق

Related posts

مجھے یقیں و گماں کی نظر لگا رہے تھے

وقت بدلا ہے مگر تھوڑا سا

جو اپنے یار سے درخواست کرنا