کچھ اس ادا سے کوئی

کچھ اس ادا سے کوئی دم بہ دم لبھائے مجھے

کہ ہارنے بھی نہ دے اور آزمائے مجھے

اس انتظار میں ہوں نقش رائیگاں ہو کر

ترا کرم کسی محراب میں سجائے مجھے

ترے نثار کسی ایسے غم گسار کو بھیج

کہ دل کی بھول بھلیوں سے ڈھونڈ لائے مجھے

یہ جی میں ہے کہ سراپا وہ نغمہ بن جاؤں

کہ جس کو تجھ سے محبت ہو گنگنائے مجھے

کسی کی دھن میں پریشاں تو ہوں بکھر ہی نہ جاؤں

گلے نہ موجۂ باد صبا لگائے مجھے

گلوں سے کم نہیں کانٹوں کی سیج بھی خورشیدؔ

خیال یار اگر چین سے سلائے مجھے

خورشید رضوی

Related posts

زندگی بھر فکر کرتے رہے

خواب تصویر کر رہا ہوں میں

شب ڈھل رہی ہے تھم چکا طوفان