خزاں کے دور میں کِھلتی بہار میرے لیے

خزاں کے دور میں کِھلتی بہار میرے لیے
خدا نے بھیجا ہے اک غم گسار میرے لیے

وہ کہہ رہا ہے میں اس کو عزیز ہوں اتنی
کرے گا وقف وہ لیل و نہار میرے لیے

کٹھن سفر یہ اگر اس کے ساتھ گزرے تو
یہ سنگ و خشت بھی ہیں لالہ زار میرے لیے

نہ کر بیان یوں تفصیل میرے عیبوں کی
بَرت اے شخص ذرا اختصار میرے لیے

کڑا ہے وقت تو نظر یں چرا کے گزرا ہے
جو کر رہا تھا زمانہ نثار میرے لیے

سنا ہے نظمیں بھی لکھتا ہے اب محبت پر
کہ بن گیا ہے وہ نامہ نگار میرے لیے

بلند بخت ہے میرا اڑان ہے اونچی
بنی یہ عاجزی فخرو وقار میرے لیے

درِ بتول کی ادنٰی سی اک کنیز ہوں میں
یہی حوالہ ہے صد افتخار میرے لیے

عاصمہ فراز

Related posts

پہلے میں خود میں فرض کی تعمیل دیکھ لوں

لازم نہیں کہ بدلے میں تجھ سے وفا ہی ہو

کلام خاص نوجوانوں کے لیے