اس سے ہی چلتی ہے

اس سے ہی چلتی ہے سانسوں کی روانی لوگو
مجھ سے مت چھینو مری آنکھ کا پانی لوگو

پارساٸی کی گواہی تو نہ مانگو اس سے
تنہا بیوہ نے گزاری ہے جوانی لوگو

ہم بیابانوں کے عادی تھے کہیں پر نہ بسے
دشتِ تنہائی میں کی نقل مکانی لوگو

آگہی کرب کے امکان بڑھا دیتی ہے
مت بتاٶ مجھے انجامِ کہانی لوگو

اس کی تصویر کو چپکے سے جلایا میں نے
وہ تھی کم ظرف محبت کی نشانی لوگو

اک نیا خواب میں پلکوں پہ سجاٶں کیسے
دل میں باقی ہے ابھی یاد پرانی لوگو

ہم کہ سادہ رہے جدت میں نہ ڈھالا خود کو
ہم کو آٸے ہی نہیں طَور زمانی لوگو

عاصمہ فراز

Related posts

نہیں آنکھوں میں یونہی نم ذیادہ

لحاظ، پیار، وفا، اعتبار کچھ بھی نہیں

کھُل گئی زمانے پر مجرمانہ خاموشی