خیال کی گونج

سوچتی ہوں ہر اک بات،
جب تمہیں لکھتی ہوں،
مگر یہ کہانی،
کہاں کہہ پاتی ہوں۔

اور وہ باتیں؟
جو کبھی لکھی ہی نہیں،
تصور کی دنیا میں،
تمہیں سوچتے ہوئے۔

یہ خیالات، یہ کہانیاں،
جو لفظوں میں نہ سمٹ سکیں،
ایک سرگوشی شاکرہؔ کی،
ایک خواب کا راز۔

شاکرہ نندنی

Related posts

ہجومِ شہر میں دل کو کہیں لگا نہ سکا

تیرا شوق دنیاداری ہے کہ مرتا ہی نہیں

میں نے پھر کبھی بھی ہمت نہ کی