خوابوں کو جاگیر بنانا بھول گئے

خوابوں کو جاگیر بنانا بھول گئے

اس پہ ستم تعبیر بنانا بھول گئے

پیار کے زہر کو چکھ لینے کے بعد کھلا

ہم اس کو اکسیر بنانا بھول گئے

چھوڑ گیا وہ جس پل ہم کو تب جانا

چاہت کو زنجیر بنانا بھول گئے

ایک دعا کی صورت تم کو چاہا تھا

اور اس میں تاثیر بنانا بھول گئے

تم کو پلکوں بیچ چھپانا حسرت تھی

تم کو پلکوں بیچ چھپانا بھول گئے

نام تمہارا ہاتھ پہ لکھنا یاد رہا

ہم اس کو تقدیر بنانا بھول گئے

فاخرہ بتول

Related posts

زندگی بھر فکر کرتے رہے

خواب تصویر کر رہا ہوں میں

شب ڈھل رہی ہے تھم چکا طوفان