خواب کو جسم سے محروم لیا جائے تو

خواب کو جسم سے محروم لیا جائے تو
بے بدن ہو کے زرا جھوم لیا جائے تو

کئی منظر ہیں جو اچھے بھی نکل آتے ہیں
اس خرابے میں اگر گھوم لیا جائے تو

ہر کنارے پہ کوئی نائو ہوا کرتی ہے
آب سے خواب کا مفہوم لیا جائے تو

میں تجھے دیکھ رہا ہوں یہ خدا دیکھ چکا
ایسے عالم میں تجھے چوم لیا جائے تو

یہ سمندر کے کنارے پہ ہے صحرا میں بھی
اسی ہوٹل میں اگر روم لیا جائے تو

فیضان ہاشمی

Related posts

ہجومِ شہر میں دل کو کہیں لگا نہ سکا

تیرا شوق دنیاداری ہے کہ مرتا ہی نہیں

میں نے پھر کبھی بھی ہمت نہ کی