خار چن لے گا بہار ناز سے

خار چن لے گا بہار ناز سے
ہم ہیں واقف قلب دشت انداز سے

تیرے قصّوں نے پریشاں کر دیا
ہم نہ تھے مانوس ہر آواز سے

یہ ابھرتے ڈوبتے چہرے تو دیکھ
آشنا سے، غیر سے، دمساز سے

دام گلشن تک تو باقیؔ آ گئی
بات چل کر حسرت پرواز سے

باقی صدیقی

Related posts

نہیں آنکھوں میں یونہی نم ذیادہ

لحاظ، پیار، وفا، اعتبار کچھ بھی نہیں

کھُل گئی زمانے پر مجرمانہ خاموشی