اعتبار نظر کریں کیسے

اعتبار نظر کریں کیسے
ہم ہوا میں بسر کریں کیسے

تیرے غم کے ہزار پہلو ہیں
بات ہم مختصر کریں کیسے

رُخ ہوا کا بدلتا رہتا ہے
گرد بن کر سفر کریں کیسے

خود سے آگے قدم نہیں جاتا
مرحلہ دل کا سر کریں کیسے

ساری دنیا کو ہے خبر باقیؔ
خود کو اپنی خبر کریں کیسے

باقی صدیقی

Related posts

نہیں آنکھوں میں یونہی نم ذیادہ

لحاظ، پیار، وفا، اعتبار کچھ بھی نہیں

کھُل گئی زمانے پر مجرمانہ خاموشی