خالی پن میں لکھی ایک نظم

خاموشی گلدان میں سجی بیٹھی ہے
خوشبو اس کے سامنے ہاتھ باندھے کھڑی ہے
تنہائی چپ سادھے لیٹی ہے
بے قراری کمرے میں ٹہل رہی ہے
اور خالی پن
ان سب کے گرد دائرے بن رہا ہے
انہیں اک ڈوری میں باندھ رہا ہے

نجمہ منصور

Related posts

یہ فکر آنکھوں میں اس کی خنجر اتارتی ہے

کیا تم نے کبھی دیکھا ہے ؟

ہو کے پارہ لہو میں ڈوب گیا