بند کمرے میں کوئی میرے

بند کمرے میں کوئی میرے سوا بھی آئے
کھڑکیاں کھول کے رکھوں تو ہوا بھی آئے

روشنی پر وہ قناعت نہیں کرنے والا
اسکی خواہش ہے کہ حصے میں دیا بھی آ ئے

لوگ آنکھوں میں ترے خواب لیے پھرتے ہیں
اور اک ہم ہیں تجھے پا کے گنوا بھی آئے

کیوں میں الجھے ہو ئے دها گوں میں الجھتی جاؤں
اس تعلق کا کوئی ہاتھ سرا بھی آ ئے

ہجر ایسا ہو کہ کٹنے میں زمانے لگ جائیں
درد ایسا ہو کہ جینے کا مزہ بھی آئے

کیسے ممکن ہے میں جگنو کو ستارہ سمجھوں
کیسے ممکن ہے کوئی اسکی جگہ بھی آئے

جنگ باقی ہے ابھی اصلی رقیبوں سے مگر
ہم تو ترکش کے سبھی تیر چلا بھی آئے

فوزیہ شیخ 

Related posts

نہیں آنکھوں میں یونہی نم ذیادہ

لحاظ، پیار، وفا، اعتبار کچھ بھی نہیں

کھُل گئی زمانے پر مجرمانہ خاموشی