کیسی دو رنگ ہے

کیسی دو رنگ ہے یہ شناسائی میرے ساتھ

میں تیرے ساتھ ہوں ،مری تنہائی میرے ساتھ

پھر ہمسفر کوئی بھی نہیں ہے ،اگر نہ ہو

پھرتی ہوئی یہ بادیہ پیمائی میرے ساتھ

اس بے کنار شب میں بہت دور تک گئی

بجھتے ہوئے دئیے تری بینائی میرے ساتھ

اس بے وفا ہوا کے مراسم سبھی سے ہیں

بستی میں سب کے ساتھ ہے،صحرائی میرے ساتھ

سرشاریِ سخن تری فرقت عذاب ہے

کچھ دیر تو ٹھہر مری ہرجائی میرے ساتھ

 

سعود عثمانی

Related posts

نہیں آنکھوں میں یونہی نم ذیادہ

لحاظ، پیار، وفا، اعتبار کچھ بھی نہیں

کھُل گئی زمانے پر مجرمانہ خاموشی