کُکھ دی قیدوں چُھٹ کے رویا

کُکھ دی قیدوں چُھٹ کے رویا
اج اک بُوٹا پُھٹ کے رویا

میں تے ہس کے گھاٹے سہہ لے
لُٹن والا لُٹ کے رویا

کچی وستی لنگھن لگیاں
راتیں بدل ٹُٹ کے رویا

لٹھے دی تھاں پاٹے لیرے
چور قبر نوں پُٹ کے رویا

گُھٹ گُھٹ کر کے اتھرو پیتے
واج گلے وچ گُھٹ کے رویا

تجمل کلیم

Related posts

ہجومِ شہر میں دل کو کہیں لگا نہ سکا

تیرا شوق دنیاداری ہے کہ مرتا ہی نہیں

میں نے پھر کبھی بھی ہمت نہ کی