کیسے رہیں نہ لوگ یہاں

کیسے رہیں نہ لوگ یہاں سب ڈرے ہوئے
اس شہر میں ہیں چور سپاہی ملے ہوئے

دہلیز پر ہیں اب بھی نگاہیں دھری ہوئیں
اک عمر ہو گئی ہے کسی کو گئے ہوئے

چہرے پہ حسرتوں کی سیاہی ملی ہوئی
آنکھوں میں زرد شام کے سائے بھرے ہوئے

کون اِس اندھیری رات میں نکلا ہے شہر سے
کاندھوں پہ اپنے درد کی گٹھری رکھے ہوئے

پردیس میں جوان گرا ، اور گر گئے
گاؤں میں دو لرزتے ہوئے ہاتھ اُٹھے ہوئے

ثبین سیف

Related posts

مجھے یقیں و گماں کی نظر لگا رہے تھے

وقت بدلا ہے مگر تھوڑا سا

جو اپنے یار سے درخواست کرنا