ہم نے پایا گمان سے بڑھ کر

ہم نے پایا گمان سے بڑھ کر
روٹی ، کپڑا ، مکان سے بڑھ کر

ہم جسے مدرسہ سمجھتے تھے
وہ نہ تھا ، اک دکان سے بڑھ کر

لطف عزت کی دال روٹی کا
شہد اور زعفران سے بڑھ کر

ہم کو انسانیت مقدم ہے
رنگ و نسل و زبان سے بڑھ کر

زندگی کچھ نہیں ، یقیں جانو!
کمرۂ امتحان سے بڑھ کر

ہیں رکاوٹ مفاد کے ساتھی
راہ کی ہر چٹان سے بڑھ کر

کچھ بھی خالص نہیں زمانے میں
جذبۂ نوجوان سے بڑھ کر

آج کل کوئی بھی نہیں بد دل
ملک بھر میں کسان سے بڑھ کر

رب نے اکثر عطا کیا نصرت
ہم فقیروں کو ، شان سے بڑھ کر

نصرت جعفری

Related posts

نہیں آنکھوں میں یونہی نم ذیادہ

لحاظ، پیار، وفا، اعتبار کچھ بھی نہیں

کھُل گئی زمانے پر مجرمانہ خاموشی