جو راستے سے بھی گزریں

جو راستے سے بھی گزریں انہیں حبیب رکھوں
دیا جلاؤں تو دہلیز کے قریب رکھوں

مرا خلوص پشیماں ہے میری فطرت سے
وہ مجھ سے دور کھنچیں میں انہیں قریب رکھوں

کسی کے دل میں جگہ ہو تو بوجھ بانٹوں بھی
کہیں زمین نہیں ہے کہاں صلیب رکھوں

کبھی مزاج نہ پوچھوں کبھی لگاؤں گلے
میں زندگی سے مراسم بڑے عجیب رکھوں

بدن سے لو تو اٹھے روشنی تو ہو قیصرؔ
ہوا کے رخ پہ سلگتا ہوا نصیب رکھوں

قیصرالجعفری

Related posts

نہیں آنکھوں میں یونہی نم ذیادہ

لحاظ، پیار، وفا، اعتبار کچھ بھی نہیں

کھُل گئی زمانے پر مجرمانہ خاموشی