جو نہ کارِ خیر میں گزرے کیا ہے زندگی

جو نہ کارِ خیر میں گزرے کیا ہے زندگی
جو صلے کے واسطے ہو کیا ہے بندگی

داغِ چاہ سے تہی ہے تِرا اگر جگر
مرگ اچھی اِس سے گویا کیا ہے زندگی

اِن دنوں ہیں آتے مِنبر سے فتوے نِت نئے
ہم نہ سمجھے ظلم کیا ہے کیا ہے بندگی

جن سے رسم و راہ ہے تم کو انھیں یہ ہو خبر
ہم کو کیسے ہو گا معلوم کیا ہے زندگی

ہستی میری چاہے ہے پیرہن نئے نئے
اک ہی دھو کے کہتا ہوں میں نیا ہے زندگی

عمر بھر رہے یہی مشغلے مِرے مگر
میں نہ سمجھا شوبی آخر کو کیا ہے عاشقی

شعیب شوبی

Related posts

ہجومِ شہر میں دل کو کہیں لگا نہ سکا

تیرا شوق دنیاداری ہے کہ مرتا ہی نہیں

میں نے پھر کبھی بھی ہمت نہ کی