جو مستقل ہے،مصیبت سے

جو مستقل ہے،مصیبت سے خوف کھا رہی ہوں
میں رخنہ ساز کی ہمت سے خوف کھا رہی ہوں

میں جانتی ہوں وہ میرے لیے ضروری ہے
جبھی تو اپنی ضرورت سے خوف کھا رہی ہوں

یہ باغ وصل کی چھاؤں کھٹک رہی ہے مجھے
میں عشق زار کی راحت سے خوف کھا رہی ہوں

ڈرایا پہلے پہل بے پناہ خامشی نے
اور اب زبان کی لکنت سے خوف کھا رہی ہوں

تو کیا وہاں بھی اسی عیش کا ساماں بنوں گی ؟؟؟
فقیہہ شہر کی جنت سے خوف کھا رہی ہوں

فرح گوندل

Related posts

نہیں آنکھوں میں یونہی نم ذیادہ

لحاظ، پیار، وفا، اعتبار کچھ بھی نہیں

کھُل گئی زمانے پر مجرمانہ خاموشی