ہم ایک دوجے سے چاہ کر

ہم ایک دوجے سے چاہ کر جو بچھڑ رہے تھے
ہمارے بخیے ہمارے ہاتھوں ادھڑ رہے تھے

وہ میری آنکھوں کے سامنے غیر ہو رہا تھا
عدو کے سب تیر میرے سینے میں گڑ رہے تھے

ہمارے خوابوں کی کوئی تعبیر ہی نہیں تھی
کبھی بسے بھی نہ تھے جو گلشن اجڑ رہے تھے

ہم عہدِ بد عہد میں جیے جا رہے تھے ایسے
کھڑے کھڑے دھوپ میں شجر جیسے سڑ رہے تھے

جفا کی آندھی پرانی قدریں ہلا چکی تھی
ہزار سالہ شجر جڑوں سے اکھڑ رہے تھے

وہ جو بھی کہتا میں اس کی ہر بات مانتی تھی
اس ایک عادت پہ لوگ مجھ پہ بگڑ رہے تھے

فرح گوندل

Related posts

یہ فکر آنکھوں میں اس کی خنجر اتارتی ہے

ہو کے پارہ لہو میں ڈوب گیا

میں نے دیکھا جگ میں ایسا