جو آئینہ تیری صورت عکس دے نہ مجھے

جو آئینہ تیری صورت عکس دے نہ مجھے
اُس آئینے کی تمنّا کبھی رہے نہ مجھے

میں جن کی کھوج میں اِک عمر ہار بیٹھا ہوں
وہ خوشبوؤں کے جزیرے کہیں ملے نہ مجھے

کھلی کتاب ہوں، ہر لفظ آئینہ ہے مرا
مگر وہ لوگ! ابھی تک جو پڑھ سکے نہ مجھے

میں تیرے لمس میں، تُو میرے لمس میں گھل جائے
اور اس طرح کہ خبر ہی نہ ہو، تجھے نہ مجھے

ایوب خاور 

Related posts

ہر سمت جبر و ظلم کی تاریک شام ہے

ہم ترے نام سے ہر خواب سنوارا کرتے

میں نے سوچا ہے تمہیں