جئے جاٶں ملن کی آرزو میں

جئے جاٶں ملن کی آرزو میں
کٹے دن رات تیری جستجو میں

نہیں اوجھل تو مجھ سے ایک پل بھی
تیری صورت ہے گھر کے چارسو میں

اترے کانوں سے دل تک اک شیرینی
عجب جادو ہے تیری گفتگو میں

اسے دیکھوں تو بہکوں بن پئے ہی
کشش ایسی ہے میرے ہم سُبو میں

کشش غزلوں میں یونہی تو نہیں ہے
تو ہے رہتا خیالِ آبرو میں

تجھکو دیکھا ہے جب سے گلبدن اے
نہیں دلبستگی کچھ رنگ و بو میں

سانسیں حاوی کی تیرا نام جپتیں
دھڑکتا ہے یہ دل کب فالتو میں

طارق اقبال حاوی

Related posts

زندگی بھر فکر کرتے رہے

خواب تصویر کر رہا ہوں میں

شب ڈھل رہی ہے تھم چکا طوفان