جس گھڑی عشق سربریدہ ہو

جس گھڑی عشق سربریدہ ہو
دشت کی خاک آبدیدہ ہو

داستاں گو بھی اجنبی ہو کوئی
اور کہانی بھی ناشنیدہ ہو

رقص کرتی ہوا کی خواہش ہے
دیپ کی لو ستم رسیدہ ہو

رنگ پتھرا رہے ہوں آنکھوں میں
بد نگاہی نرا عقیدہ ہو

دھوپ سے پاؤں جب جلیں ارشاد
راہ میں پیڑ برگزیدہ ہو

ارشاد نیازی

Related posts

زندگی بھر فکر کرتے رہے

خواب تصویر کر رہا ہوں میں

شب ڈھل رہی ہے تھم چکا طوفان