جہاں دھواں تھا وہیں

جہاں دھواں تھا وہیں روشنی کے داغ بھی تھے
مرے مکان کے ملبے میں کچھ چراغ بھی تھے

ذرا سی دیر میں محفل کو کیا ہوا یا رب
ابھی تو شام بھی تھی مے بھی تھی ایاغ بھی تھے

زمین بیچ کے رہتے تھے آسمانوں پر
مرے بزرگوں میں وہ صاحب فراغ بھی تھے

خدا بھی دیکھ کے چپ تھا کہ میرے دامن میں
جہاں گناہ وہیں آنسوؤں کے داغ بھی تھے

جو ہم جلے تو دل و جاں چمک اٹھے قیصرؔ
بہت دنوں سے یہ ویرانے بے چراغ بھی تھے

قیصرالجعفری

Related posts

یہ فکر آنکھوں میں اس کی خنجر اتارتی ہے

ہو کے پارہ لہو میں ڈوب گیا

میں نے دیکھا جگ میں ایسا