جفا و جور کا اس سے گلہ کیا

جفا و جور کا اس سے گلہ کیا
جو پوچھے مہربانی کیا، وفا کیا

وہ بے پروا جوابِ نامہ لکھے
خدا جانے کہ دشمن نے لکھا کیا

دیا کیوں ہونے اس بد خو پہ عاشق
ہمارا دوست کوئی بھی نہ تھا کیا

شمیمِ گل میں بوئے پیرہن ہے
غلط ہے یہ کہ احسانِ صبا کیا

نہ لکھنا تھا غمِ ناکامیِ عشق
جوابِ نامۂ بے مدعا کیا

ہمیں تھا آپ قصدِ عرضِ احوال
جو وہ خود پوچھتے ہیں پوچھنا کیا

تماشا ہے جلے گر خانۂ غیر
وہ کہتے ہیں کہ آہِ شعلہ زا کیا

فنائے عاشقاں عینِ بقا ہے
دیت زندوں کی کیسی، خون بہا کیا

اگر ہے بوالہوس تو قتل کر چک
عدو سے وعدۂ شوق آزما کیا

مصطفیٰ خان شیفتہ

Related posts

پہلے میں خود میں فرض کی تعمیل دیکھ لوں

لازم نہیں کہ بدلے میں تجھ سے وفا ہی ہو

کلام خاص نوجوانوں کے لیے