جب مری ماں مجھے

جب مری ماں مجھے جینے کی دعا دیتی ہے
اشک نکلیں بھی تو آنکھوں میں چھپا دیتی ہے

بے خبر ماں کی دعاؤں کا اثر کیا جانیں
ماں وہ ہستی ہے کہ جو عرش ہلا دیتی ہے

ہم نے افلاس میں دیکھا ہے یہ ممتا کا خلوص
کھانا کھاتے ہوئے وہ شمع بجھا دیتی ہے

ماں! مجھے دن کے اجالوں میں بھی ڈر لگتا ہے
دستِ شفقت جو مرے سر سے ہٹا دیتی ہے

حد نہیں ہوتی کوئی ماں کی سخاوت کی کبھی
جب وہ دیتی ہے تو پھر حد سے سوا دیتی ہے

خود تو کانٹوں پہ بسر کرتی ہے راتیں فیصل
نرم بستر پہ وہ بچوں کو سُلا دیتی ہے

فیصل شہزاد

Related posts

وصل کا شوق نچائے تو خوشی ہوتی ہے

سر اتاروں گا ترا، بیج بھی بویا میں تھا

نہیں خزاں ہی نشان قاتل