جب ہونٹوں پر تالوں نے دل چیر دیا

جب ہونٹوں پر تالوں نے دل چیر دیا
چہرہ دیکھنے والوں نے دل چیر دیا

کچھ تیرے الفاظ بھی نشتر جیسے تھے
کچھ تیرے متوالوں نے دل چیر دیا

لوگوں کی تو عادت ہے باتیں کرنا
بس تیری پڑتالوں نے دل چیر دیا

مدت بعد ہُوا جب گاؤں جانا تو
خالی گھر کے جالوں نے دل چیر دیا

مجبوری کا قصہ چل مَیں مان گئی
لیکن تیری چالوں نے دل چیر دیا

پیاس کی شدت نے مارا صحراؤں میں
اور پاؤں کے چھالوں نے دل چیر دیا

بھوکے بچوں کی نظروں میں پوشیدہ
کچھ معصوم سوالوں نے دل چیر دیا

منزّہ سیّد

Related posts

​کب سے ہم نے تیرے غموں کو

حاصلِ عشق کا ہر روز تماشا نہ کریں

اپنی نیّت دیکھ لینا، پھر ہماری دیکھنا