جب دیکھنا تو آنکھ کے اُس پار دیکھنا

جب دیکھنا تو آنکھ کے اُس پار دیکھنا
محسوس کر رہے ہیں جو وہ ہار دیکھنا

دیکھے ہیں تُو نے اُترے ہوئے چہرے کئی بار
اس بار تُو شِکست کے آثار دیکھنا

میں دیکھتا ہوں دُشمنانِ رُو بَرو کو تُو
اپنی کمین گاہ کے غدار دیکھنا

خطرہ نہیں تھا مجھ کو کبھی پہریدار سے
لیکن تُو گھر کے سب در و دیوار دیکھنا

میں سُن رہا ہوں شاہ سے نالاں ہے بادشاہ
ملتی ہے کس کو پھر نئی دستار دیکھنا

دنیا بدل گئی ہے مگر جوں کی توں ہے یہ
اس بستی کے نکال کے اخبار دیکھنا

بستی سے مل سکے نہ تجھے بے ضمیر جو
پھر شہرِ اقتدار کے بازار دیکھنا

عِلم و عَمَل سے دور ہے لیکن تُو شَیخ کی
موقع مِلے تو قُوَّتِ گُفتار دیکھنا

وِرثے میں مل گئی ہے نوحہ خوانی قوم کی
عاجِزؔ کے سَرسَری نہ تُو اشعار دیکھنا

ڈاکٹر الیاس عاجزؔ

Related posts

کیا خواب جینے کی خواہش بڑھاتے ہیں؟

مجھے یقیں و گماں کی نظر لگا رہے تھے

وقت بدلا ہے مگر تھوڑا سا