عشق سے مَیں ڈَر چُکا تھا, ڈَر چُکا تو تم ملے

عشق سے مَیں ڈَر چُکا تھا, ڈَر چُکا تو تم ملے
دل تو کب کا مَر چُکا تھا, مَر چُکا تو تم ملے

جب مَیں تنہا گھٹ رہا تھا تب کہاں تھی زندگی
دل بھی غم سے بَھر چُکا تھا, بَھر چُکا تو تم ملے

بے قراری, پھر محبت, پھر سے دھوکہ ! اب نہیں
فیصلہ میں کَر چُکا تھا, کَر چُکا تو تم ملے

مَیں تو سمجھا سب سے بڑھ کر مطلبی تھا مَیں یہاں
خود پہ تُہمت دَھر چُکا تھا, دَھر چُکا تو تم ملے

تیرے آنے سے بھی پہلے کوئی آ کر خواب میں
رنگ مجھ میں بَھر چُکا تھا, بَھر چُکا تو تم ملے

ورنہ ہم سب ڈوب کر رکھتے محبت کا بھرم
اپنا بیڑا تَر چُکا تھا, تَر چُکا تو تم ملے

تم کو کیا معلوم ہوگا زیبؔ پچھلی جنگ میں
سارا لشکر ہَر چُکا تھا, ہَر چُکا تو تم ملے

اورنگ زیبؔ

Related posts

وصل کا شوق نچائے تو خوشی ہوتی ہے

سر اتاروں گا ترا، بیج بھی بویا میں تھا

نہیں خزاں ہی نشان قاتل