عشق میں کچھ بھی

عشق میں کچھ بھی ہو سکتا ہے
یہ طوفان ڈبو سکتا ہے

جب منزل دھندلی ہو جائے
رستہ کھوٹا ہو سکتا ہے

یادوں کی چادر کو اوڑھے
کوئی کیسے سو سکتا ہے

آج ملا تو پوچھ رہا تھا
کیا اب بھی کچھ ہو سکتا ہے

پھول جھڑیں جس کے ہونٹوں سے
وہ بھی خار چبھو سکتا ہے

میرے دل کی وسعت دیکھو
کیا کیا درد سمو سکتا ہے

آنسو ایک ندامت والا
ہر لغزش کو دھو سکتا ہے

اس کے کنُ کہنے سے سعدیؔ
سوچو کیا کیا ہو سکتا ہے

سعید سعدی

Related posts

یہ فکر آنکھوں میں اس کی خنجر اتارتی ہے

ہو کے پارہ لہو میں ڈوب گیا

میں نے دیکھا جگ میں ایسا