ہیں محوِ حیرتِ دنیا

ہیں محوِ حیرتِ دنیا دماغ کتنے ہی
ملا نہ تُو ملے تیرے سراغ کتنے ہی

یہ سال کیسی ہواؤں کو ساتھ لایا ہے
بجھا دیے ہیں پرانے چراغ کتنے ہی

یہ کیا کہ روز نیا زخم مل رہا ہے ہمیں
ابھی تو مٹنے نہ پائے تھے داغ کتنے ہی

یہ ان کے لہجے کی تاثیر تھی کہ باتوں کی
دکھا دیے ہیں ہمیں سبز باغ کتنے ہی

ہے اب بھی دل مرا آمادہءِ محبت کیوں
ملے ہیں گرچہ محبت میں داغ کتنے ہی

یہی وہ غم تھا جو اقبال کو ستاتا رہا
انہیں ملا نہیں شاہیں تھے زاغ کتنے ہی

بنا پلائے ہی رخصت کیا ہمیں سعدیؔ
اگرچہ اس نے بھرے تھے ایاغ کتنے ہی

سعید سعدی

Related posts

یہ فکر آنکھوں میں اس کی خنجر اتارتی ہے

ہو کے پارہ لہو میں ڈوب گیا

میں نے دیکھا جگ میں ایسا