اس ضرورت کو سمجھتا هی نہیں

اس ضرورت کو سمجھتا هی نہیں
وه محبت کو سمجھتا هی نہیں

جیسے بُت هو کوئی پتھر سے بنا
رنج وراحت کو سمجھتا هی نہیں

توڑتا جاتاهے یوں پُھول کے وه
جیسے فطرت کو سمجھتا هی نہیں

دُرنایاب هے وه شخص مگر
اپنی قیمت کو سمجھتا هی نہیں

فرانسس سائل

Related posts

یہ فکر آنکھوں میں اس کی خنجر اتارتی ہے

ہو کے پارہ لہو میں ڈوب گیا

میں نے دیکھا جگ میں ایسا