گُلوں کی چھاٶں جیسا هے

گُلوں کی چھاؤں جیسا هے
دلاسه ماٶں جیسا هے

بدلتے هیں مزاج اس کے
یه دل دریاٶں جیسا هے

چمن سے بھی سلُوک اُسکا
وهی صحراٶں جیسا هے

یه میرا شهر اچھا هے
که تھوڑا گاٶں جیسا هے

فرانسس سائل

Related posts

نہیں آنکھوں میں یونہی نم ذیادہ

لحاظ، پیار، وفا، اعتبار کچھ بھی نہیں

کھُل گئی زمانے پر مجرمانہ خاموشی