اس طرح کمالِ سخن کی پہچان کی ہے

اس طرح کمالِ سخن کی پہچان کی ہے
دلِ وابستہ کی کتنی خواہشیں قربان کی ہیں

ظلم کی بجلیاں دیکھ کر نہیں بھاگنے والے
بات میرے گھر کی نہیں، ہندوستان کی ہے

تو نے الجھا کے اس رنگین دنیا میں مجھے
آزمائش لی بھی تو میرے ایمان کی ہے

نہ سونپا جائے مجھے آسائشوں کا تھیلا
اس جہاں میں میری حیثیت مہمان کی ہے

خاموش صدائیں، خاموش فصلِ گُل
یہ خاموشی کیا کسی طوفان کی ہے؟

نگار فاطمہ انصاری

Related posts

میں مقتول قاتل ہوں

مخالفین کا ظرف اور آج کی سیاست کا زوال

میرا سفر : شوگر سے صحت کی طرف