باتوں ہی باتوں میں

باتوں ہی باتوں میں تیرا ذکر لاتے ہیں شوق سے
میرے دوست میرا صبر آزماتے ہیں شوق سے

تم اپنے عہد کی تکمیل میں لُٹ جاتی ہو
یہاں لوگ جھوٹی قسمیں کھاتے ہیں شوق سے

وہ داستاں جو ادھوری چھوڑی تھی ہم نے
اب بدلتے ہوئے موسم سناتے ہیں شوق سے

سنو ! اپنے دل کی فصیلیں ذرا مضبوط رکھنا
اس شہر میں افواہیں اُڑاتے ہیں شوق سے

ہم ہر شجر کو ثمر بخشنے والے اکثر
اپنی ہی زندگی پر خاک اُڑاتے ہیں شوق سے

کم سنی کی نادانی میں دیکھے ہوئے خواب
ٹوٹ کر عمر بھر جگاتے ہیں شوق سے

نگارؔ حرفِ وفا ہم نے یوں نبھایا ہے
کہ زخم دل کے سب دکھاتے ہیں شوق سے

نگار فاطمہ انصاری

Related posts

انسان ناشکری کیوں کرتا ہے؟

کیا پڑھنے کا کوئی فائدہ نہیں؟

کیا ہم بے وقوف ہیں؟