اس اطلسی قبا کے ہی تسمے کا درد ہے

اس اطلسی قبا کے ہی تسمے کا درد ہے
وہ حسن بے بہا تھا مرا رنگ زرد ہے

گاچی پڑی اداس ہے تختی کے آس پاس
پوچے سکھائے کون کہ ماحول سرد ہے

دریا میں بار بار ڈبوتا ہوں اپنا منہ
تجھ روشنی کے لوبھ میں چہرے پہ گرد ہے

الٹا بنا رہا ہوں میں کاغذ پہ عکس کو
سیدھا وہی دکھائے گا جو اصل مرد ہے

ہر لفظ کا مقام ہے راشدؔ غزل کے گھر
ہر شعر خاندان کا با رعب فرد ہے

راشد امام

Related posts

نہیں آنکھوں میں یونہی نم ذیادہ

لحاظ، پیار، وفا، اعتبار کچھ بھی نہیں

کھُل گئی زمانے پر مجرمانہ خاموشی