یہ صدی رفتار کی صدی ہے اسکرینوں کی چمک، نوٹیفکیشنز کی بارش اور لمحہ بہ لمحہ بدلتی ہوئی حقیقت کی ہیں۔ یہاں ہر چیز تیز ہے سوچ، تعلق، کامیابی حتیٰ کہ تھکن بھی۔ ایسے میں اگر کوئی فلسفہ خاموشی کی بات کرے اور اگر کوئی ٹھہراؤ کی دعوت دے تو وہ عجیب بھی لگتا ہے اور ضروری بھیلگتا ہے۔ یہی زاینو ازم ہے ایک اَن دیکھا چیز ہے یا شاید فلسفہ ہے مگر شدت سے محسوس کیا جانے والا سہارا بھی ہے۔
زاینو ازم ہمیں بتاتا ہے کہ کہ جدید انسان کی سب سے بڑی محرومی وقت کی کمی نہیں ہے بلکہ سکون کی کمی ہے۔ ہم ہر لمحہ جڑے ہوئے ہیں مگر خود سے کٹے ہوئے بھی ہیں۔ ہم ہر خبر کو جانتے ہیں مگر اپنے دل کی خبر سے بے خبر ہیں۔ ایسے میں زاینو ازم ایک نرم سی سرگوشی ہے کہ”رک جاؤ خود کو سنو”
ضروری نہیں کہ ہر بحث انسان کے لیے اہم اور ضروری ہو ہر بات "آپ” کے لیے نہیں ہوتی اور ہر کامیابی بھی آپ کے لیے نہیں ہے اس لیے بے لگام گھوڑے کی طرح بھاگنا بھی انسان کے لیے اذیت ناک ثابت ہوسکتا ہے۔ اس صدی میں جہاں کامیابی کو رفتار سے ناپا جاتا ہے زاینو ازم ہمیں معیار بدلنے کا ہنر دیتا ہے یہ کہ کامیابی وہ ہے جہاں دل بے وزن ہو ذہن پرسکون ہو اور روح مطمئن ہو
ڈیجیٹل دنیا میں ہم اپنی پہچان لائکس، شیئرز اور فالوورز میں ڈھونڈتے ہیں۔ مگر زاینو ازم ہمیں آئینہ دکھاتا ہے کہ اصل شناخت وہ ہے جو خاموش لمحوں میں ابھرتی ہے جب کوئی ہمیں دیکھ نہیں رہا ہوتا تب ہم واقعی کون ہوتے ہیں۔
یہ فلسفہ فرار نہیں سکھاتا بلکہ توازن سکھاتا ہے۔ یہ نہیں کہتا کہ دنیا چھوڑ دو بلکہ یہ کہتا ہے کہ دنیا میں رہ کر خود کو نہ کھو دو۔ کام کرو خواب دیکھو اور کامیاب بننے کوشش کریں مگر اس سب کے درمیان اپنے اندر ایک ایسی جگہ قائم رکھو جہاں شور داخل نہ ہو سکے۔
شاید اسی لیے اس صدی میں زاینو ازم کی اہمیت اور بڑھ گئی ہے کیوں کہ جتنا باہر شور بڑھتا ہے اتنی ہی اندر خاموشی کی ضرورت محسوس ہوتی ہے۔
زاینو ازم کوئی کتابی اصول نہیں یہ ایک عمل ہے۔ ایک لمحہ جب آپ فون کو ایک طرف رکھ کر گہری سانس لیتے ہیں یا میوزک سنتے ہیں۔ ایک لمحہ جب آپ بغیر کسی مقصد کے آسمان کو دیکھتے ہیں۔ ایک لمحہ جب آپ خود کو محسوس کرتے ہیں اور شاید یہی چھوٹے لمحے، اس بڑی اور بے چین دنیا میں سب سے بڑی نجات ہیں۔
مدثر عباس
22مارچ 2026ء