بے شمارو میرے یارو الوداع

بے شمارو میرے یارو الوداع
مرغ زارو چاند تارو الوداع

میں چلا آرام کرنے کچھ گھڑی
بے سکونو بے‌ قرارو الوداع

اب رہوں گا نفرتوں کے شہر میں
چاہتوں کے دعوہ دارو الوداع

خوب گزری جو بھی گزری ساتھ میں
غم کے مارو رشتہ دارو الوداع

اے مری ہر رات کے ہم راہیو
اے ستارو غم گسارو الوداع

موج نے اب ساحلوں کے درمیاں
پھینک ڈالا اے کنارو الوداع

رات کی آغوش ہے اور ہجر ہے
ہوش کے الجھے مدارو الوداع

لو مبارک ہو تمہیں یہ بزم اب
بس کرو اب مت پکارو الوداع

ساز نغمہ جام بزم دوستاں
زیست کے جھوٹے سہارو الوداع

رقص دانشؔ فکر کے دربار میں
اے جنوں کے ٹھیکیدارو الوداع

دانش عزیز

Related posts

پہلے میں خود میں فرض کی تعمیل دیکھ لوں

لازم نہیں کہ بدلے میں تجھ سے وفا ہی ہو

کلام خاص نوجوانوں کے لیے