اک وراثت کی طرح گاؤں کی گڑ سی باتیں

اک وراثت کی طرح گاؤں کی گڑ سی باتیں
گٹھڑیاں باندھ کے اس دل کے نگر آتی ہیں

جتنا بھی چاہوں درِ یار سے بچ کر نکلوں
تہمتیں اتنی زیادہ مرے سَر آتی ہیں

اتنی سی بات پہ اچھی نہیں شوریدہ سری
شام کو چڑیاں تو سب اپنے ہی گھر آتی ہیں

شرم سے الجھے دوپٹے کی جو کھولوں گر ہیں
دل کی نیناں رگیں سب کھلتی نظر آتی ہیں

فرزانہ نیناں

Related posts

پہلے میں خود میں فرض کی تعمیل دیکھ لوں

لازم نہیں کہ بدلے میں تجھ سے وفا ہی ہو

کلام خاص نوجوانوں کے لیے