ادھر بھی دیکھیے دیدہ ورانٍ تنہائی

ادھر بھی دیکھیے دیدہ ورانٍ تنہائی
کہ ہو گیا کوئی انسان جانٍ تنہائی

تمام شہر کو معلوم ہے مرا مسکن
اداسیوں کا محلہ مکانٍ تنہائی

سمجھنا چاہیں اگر ہم تو سورہء اخلاص
ہے رب ٍ ارض و سما کا بیان ٍ تنہائی

جو بولتا ہے وہ خاموش ہو کے مرتا ہے
عجیب طرز کی ہے یہ زبانٍ تنہائی

قبولیت کی گھڑی ہے مجھے دعائیں دو
ہمیشہ زندہ رہے میزبان ٍ تنہائی

راکب مختار

Related posts

درد کی سرحد سے دل بھی

دل لگی یاد آئے گی

دیے تھے ہم تو ماند سے