اب کہاں باقی رہا نور میں بھیگا ہوا تو

اب کہاں باقی رہا نور میں بھیگا ہوا تو
ہائے افسوس کئی ہاتھوں سے میلا ہوا تو

ایک چھالے میں سمیٹوں تجھے رسوا کر دوں
دشت اترا نہ مرے سامنے پھیلا ہوا تو

موت سے قبل یہ احساس سکوں دے گا مجھے
تیرا دیکھا ہوا میں ہوں میرا دیکھا ہوا تو

ہاتھ در ہاتھ کئی ہاتھ جھٹکتا ہوا میں
لوگ در لوگ بھرے شہر سے ملتا ہوا تو

پتیاں پھول کی مٹی سے اٹھائیں تو مجھے
یاد آیا مری آغوش میں بکھرا ہوا تو

آنکھ کھلتے ہی مرے ہاتھ سے چھن جاتا ہے
حالت_نیند میں اک خواب سے مانگا ہوا تو

اس قدر اونچی ہے سینے کے مدینے کی فصیل
جس سے ٹکرا کے پلٹ آئے گا بھاگا ہوا تو

راکب مختار

Related posts

نہیں آنکھوں میں یونہی نم ذیادہ

لحاظ، پیار، وفا، اعتبار کچھ بھی نہیں

کھُل گئی زمانے پر مجرمانہ خاموشی