ہم تو آپ سے اچھی باتیں کرتے ہیں

ہم تو آپ سے اچھی باتیں کرتے ہیں
آپ ہی ہم سے ایسی باتیں کرتے ہیں

ملنے پر چپ لگ جاتی ہے دونوں کو
فون پہ اچھی خاصی باتیں کرتے ہیں

لوگ تو کرتے ہوں گے اُس کے بارے میں
پر جو شہر کے درزی باتیں کرتے ہیں

بن دیکھے ایمان نہیں لا سکتا میں
اور وہ غیر یقینی باتیں کرتے ہیں

پیر فقیر تو چپ ہی رہتے ہیں مذکور
دنیا دار ہی دینی باتیں کرتے ہیں

ضیا مذکور

Related posts

درد کی سرحد سے دل بھی

دل لگی یاد آئے گی

دیے تھے ہم تو ماند سے