ہم جو سوئے تو جگ گئے ترے ہاتھ

ہم جو سوئے تو جگ گئے ترے ہاتھ
خواب گاہوں کو ٹھگ گئے ترے ہاتھ

آنکھ روشن ہوئی تو ہم پہ کھلا
ہم اندھیرے میں لگ گئے ترے ہاتھ

جسم کی خاک چھاننے کے لیے
باقیوں سے الگ گئے ترے ہاتھ

ہم وہ دیوارِ تازہ رنگ، جہاں
بے خیالی میں لگ گئے ترے ہاتھ

ہم جو لوگوں پہ ہنس رہے تھے، ہمیں
کس سہولت سے ٹھگ گئے ترے ہاتھ

میرے نازک مزاج ! کیا کہنے
جگنووں سے سلگ گئے ترے ہاتھ

راز احتشام

Related posts

مجھے یقیں و گماں کی نظر لگا رہے تھے

وقت بدلا ہے مگر تھوڑا سا

جو اپنے یار سے درخواست کرنا