آرزو کی ہے اس ادا کے ساتھ

آرزو کی ہے اس ادا کے ساتھ
حوصلہ بڑھ گیا سزا کے ساتھ

موج حالات کا فریب نہ پوچھ
ہم ابھرتے ہیں ہر صدا کے ساتھ

اپنی آواز پر گماں کیسا
ہو گئے چپ نہ ہمنوا کے ساتھ

بات کی داستان کیا معنی
درد تھا درد آشنا کے ساتھ

اپنا دامن بھی وہ بچاتے ہیں
بے تکلف بھی ہیں گدا کے ساتھ

ایسے موسم کی انتہا معلوم
دل برسنے لگا گھٹا کے ساتھ

کسی گل کے نہ ہم رہے باقیؔ
دو قدم کیا چلے صبا کے ساتھ

باقی صدیقی

Related posts

مجھے یقیں و گماں کی نظر لگا رہے تھے

وقت بدلا ہے مگر تھوڑا سا

جو اپنے یار سے درخواست کرنا