ہم چھپائیں گے بھید کیا دل کا

ہم چھپائیں گے بھید کیا دل کا
رنگ آنکھوں میں آ گیا دل کا

زندگی تیرگی میں ڈوب گئی
ہم جلاتے رہے دیا دل کا

تم زمانے کی راہ سے آئے
ورنہ سیدھا تھا راستہ دل کا

زندگی بھر کوئی پتہ نہ چلا
دور گردوں کا، آپ کا، دل کا

وقت اور زندگی کا آئینہ
نوک غم اور آبلہ دل کا

آنکھ کھلتے ہی سامنے باقیؔ
ایک سنسان دشت تھا دل کا

باقی صدیقی

Related posts

نہیں آنکھوں میں یونہی نم ذیادہ

لحاظ، پیار، وفا، اعتبار کچھ بھی نہیں

کھُل گئی زمانے پر مجرمانہ خاموشی