چل گیا ہے فسوں زمانے کا

چل گیا ہے فسوں زمانے کا
اب تکلف کرو نہ آنے کا

دیکھ کر ہم کو بے نیاز حیات
حوصلہ بڑھ گیا زمانے کا

وقت ہو تو حضور سن لیجے
آخری باب ہے فسانے کا

اک ستارہ بھی آسماں پہ نہیں
کیا کوئی وقت ہے یہ جانے کا

ڈوبتا جا رہا ہے دل باقیؔ
وقت یہ تھا فریب کھانے کا

باقی صدیقی

Related posts

نہیں آنکھوں میں یونہی نم ذیادہ

لحاظ، پیار، وفا، اعتبار کچھ بھی نہیں

کھُل گئی زمانے پر مجرمانہ خاموشی